ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بہار انتخابی نتائج: فسطائی طاقتوں کے خلاف متحدہ لڑائی کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی

بہار انتخابی نتائج: فسطائی طاقتوں کے خلاف متحدہ لڑائی کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی

Wed, 11 Nov 2020 21:14:17    S.O. News Service

نئی دہلی۔(ایس اونیوز/پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں بہار اسمبلی انتخابی نتائج پر ردعمل ظاہر  کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام پیش گوئیاں، توقعات اور ایگزٹ پولس کو مسترد کرتے ہوئے بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے نے بہار میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ نتائج ہندوستانی معاشرے میں فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی حد کو بے نقاب کرتا ہے۔

بی جے پی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ عوام بے روزگاری، قیمتوں میں اضافے وغیرہ یا ترقی جیسے بنیادی معاملات سے پریشان نہیں ہیں۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہو جو اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کو ختم کرسکتا ہو۔ این ڈی اے عوام اور ریاست کی بنیادی ضرورتوں یا ترقی کی بات کرنے کے بجائے متعصب ایجنڈے پر مرکوز رہا ہے۔ مسلم آبادی والے سیمانچل خطے میں تیسرے مرحلے کی انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی کی فرقہ وارانہ تقاریر سے بی جے پی کو مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ ان کے تقریر میں ان کے یہ الفاظ انتہائی فرقہ وارانہ تھے اور اس میں انہوں نے خاص طو ر پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا تھا کہ 'یہ لوگ جئے شری رام کو سننا پسند نہیں کرتے ہیں۔ بھارت ماتا کے مخالف متحد ہوگئے ہیں اور ووٹ مانگ رہے ہیں۔ بی جے پی نے اپنی ہی حلیف جے ڈی (یو) کو شکست دینے اور اتحاد کی سب بڑی واحد پارٹی بننے کی تدبیر کی۔ تاکہ نتیش کمار چیف منسٹر عہدے کیلئے خطرہ نہ بنیں۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ آر جے ڈی کے زیر قیادت مہا گٹھ بندھن نرم ہندوتوا کارڈ کھیل رہا تھا۔ جس میں مسلم گروپوں اور پارٹیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ بی جے پی سے لڑنا اور ان کو شکست دینا جو ملک میں پوری جمہوری اور عدالتی نظام کو بھگوا رنگ میں رنگنے میں کامیاب ہے،کوئی آسان کام نہیں ہے جو عوام کی حمایت کے بغیر پورا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ این ڈی اے نے ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا، مہا گٹھ بندھن نے غلط اور خاموشی سے یہ تسلیم کیا کہ مسلمانوں کو اپناحلیف بنانے سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ یہاں تک کہ انہوں نے کسی بھی مسلم مذہبی تنظیموں یا مسلم سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ سوچ کر کہ اس سے اکثریت کے جذبات مجرو ح ہونگے۔ مسلم اور دلت پارٹیوں کے اس اجتناب نے مہا گٹھ بندھن کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔ کمزور کانگریس جو مقابلہ کرنے کیلئے 70سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی وہ صرف 19سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ آر جے ڈی، اب بھی اپنی عوامی حمایت برقرار رکھنے والی بی جے پی سے آگے ہے اور 75نشستیں حاصل کرنے والی واحد بڑی پارٹی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اپنی صدی پرانی پارٹی کی شرمناک شکست کیلئے اے آئی ایم آئی ایم کو مورد الزام قراردے رہے ہیں جو ہندوتوا کے معاملات میں بی جے پی کے مسابقت کے نتیجے میں عوامی حمایت کھودی ہے۔

ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم نے انتخابی مقابلہ میں 20میں سے 5نشستیں حاصل کیں جو یقینی طور پر انڈین نیشنل کانگریس سے بہتر کارکردگی ہے۔ نام نہاد سیکولر پارٹیو ں نے ابھی تک ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے اور وہ اب بھی خواب غفلت میں ہیں اور مسلمانوں کی ووٹنگ کی طاقت کے اہم عوامل کو نظر انداز کررہے ہیں۔ دونوں طرف چلی فرقہ وارانہ ہوا میں پرگریسو ڈیموکریٹک الائنس (پی ڈی اے) توقع کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی لیکن وہ انتخاب میں اپنی موجودگی کو نشان زد کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ بہار انتخابات کے نتائج کا اہم سبق یہ ہے کہ مسلمان دادی ماں کے پارٹیوں کے ووٹ بینک بننا چھوڑ چکے ہیں۔ انہیں احساس ہوچکا ہے کہ وہ اپنی شناخت کو پہنچانے بغیر صرف ووٹ بینک کی طرح استعمال ہورہے ہیں۔ اب خود ساختہ سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کی شناخت کو پہچانے بغیر صرف ان سے ووٹ لینے کی توقع نہیں کرسکتی ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس جیسی پارٹیاں جتنی جلدی اس بات کو پہچانیں گی اتنا ہی بہتر ہے کہ ان کی نرم ہندوتوا لائن انہیں مستقبل میں انتخابی فتوحات نہیں دے گی۔ اقلیتوں اور دلتوں کی شمولیت کے بغیر کسی ایک پارٹی یا شخص کے ذریعے فاشسٹوں کو شکست نہیں دیا جاسکتا ہے۔ 


Share: